اسیر ماضی (افسانے)

 1,000

یہ افسانوی مجموعہ فطرت کے بارے میں کئی خوبصورت افسانوں کا مجموعہ ہے۔زیادہ تر افسانے جنگل، دریا ، ہواؤں، آسماں کی بلندیوں اور جنگلی  حیات کے ارد گرد گھومتے ہیںَ۔ ان افسا نوں کو علامتی افسانے بھی کہا جاسکتا ہے۔  صاحبِ کتاب، ان لوگوں میں سے ہیں جو بہت کچھ دیکھ چکے ہوتے ہیں، پر بولتے کم ہیں۔ لیکن جب لکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی شام کا سُنّاٹا ہو، اور اُس میں دور سے اذان کی آواز آ رہی ہو۔ دل لرزتا ہے، رُکتا ہے، اور پھر کچھ دیر سوچتا ہے۔ کتاب کا سرورق ہی بتا دیتا…

Category:
Tags: ,

Description

یہ افسانوی مجموعہ فطرت کے بارے میں کئی خوبصورت افسانوں کا مجموعہ ہے۔زیادہ تر افسانے جنگل، دریا ، ہواؤں، آسماں کی بلندیوں اور جنگلی  حیات کے ارد گرد گھومتے ہیںَ۔ ان افسا نوں کو علامتی افسانے بھی کہا جاسکتا ہے۔  صاحبِ کتاب، ان لوگوں میں سے ہیں جو بہت کچھ دیکھ چکے ہوتے ہیں، پر بولتے کم ہیں۔ لیکن جب لکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی شام کا سُنّاٹا ہو، اور اُس میں دور سے اذان کی آواز آ رہی ہو۔ دل لرزتا ہے، رُکتا ہے، اور پھر کچھ دیر سوچتا ہے۔ کتاب کا سرورق ہی بتا دیتا ہے کہ یہاں صرف لفظ نہیں ملیں گے، یہاں یادیں سانس لیتی ہیں۔ پرانے قافلے، گھڑی کی سوئیاں، مٹی کے رنگ، اور ایک تھکا ہوا آسمان یہ سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم بھی تو کسی وقت کے قافلے میں سوار تھے، کہیں رُک گئے، کہیں بچھڑ گئے،۔

اس کتاب کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ ہر باب، ہر تحریر، ادھوری رہ جاتی ہے اور بس، وہیں سے قاری کی کہانی شروع ہو جاتی ہے۔ شاید اسی کو ادب کہتے ہیں۔ مکمل نہ ہو، لیکن مکمل محسوس ہو۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے نہیں، جو تیز تیز پڑھتے ہیں، سرسری دیکھتے ہیں، اور کتاب کو ایک فائل سمجھتے ہیں- یہ اُن کے لیے ہے جو کبھی چپکے سے روئے ہوں، جن کے دل میں ایک بچھڑ جانے والی خوشبو آج بھی سانس لیتی ہو، اور جو لفظوں میں سکون تلاش کرنے نکلے ہوں۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “اسیر ماضی (افسانے)”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related products